16 اکتوبر 2013 - 20:30
مسجد الاقصی کے خلاف صہیونیوں کی نئی سازش

لبنان کے المیادین نیوز چینل نے اعلان کیا ہے کہ صہیونی ریاست کا یہ ارادہ ہے کہ وہ مسجد الاقصی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے لئے دو حصوں میں تقسیم کردے تاکہ یہودیوں سے مختص حصے میں یہودیوں کا ایک مبعد تعمیر کیا جاسکے۔

ابنا: صہیونی ریاست کا یہ ارادہ ہے کہ وہ مسجد الاقصی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے لئے دو حصوں میں تقسیم کردے تاکہ یہودیوں سے مختص حصے میں یہودیوں کا ایک مبعد تعمیر کیا جاسکے۔ ہر چند کہ مسجد الاقصی کے انہدام کے لئے صہیونیوں کا یہ پہلا منصوبہ نہیں ہے ، لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ صہیونی یہ چاہتے ہیں کہ مسجد الاقصی کہ جو مسلمانوں کی ایک مقدس ترین مسجد میں شمار ہوتی ہے کے ایک حصے میں، یہودیوں کا مبعد تعمیر کریں۔ مسجد الاقصی کے خطیب " شیخ عکرمہ صبری " کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودی مسجد الاقصی میں مبعد تعمیر کرنے کے لئے ایک سازشی منصوبے کے حوالے سے صہیونی ریاست کے حکام پر اپنے دباؤ کو بڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہودیوں کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر انتہا پسند یہودیوں نے مسجد الاقصی کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔ بعض خبری ذرائع منجملہ " قدسنا " نے لکھا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی سرزمینوں میں بارہ اہم انتہا پسند صہیونی تنظیموں کے مراکز ہیں کہ جو بیت المقدس شہر میں اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کے خلاف ، انتہا پسند یہودیوں کو اکساتی ہیں اور ان کی اس حوالے سے راہنمائی کرتی ہیں۔ اور یہ بارہ انتہا پسند تنظیمیں مختلف ناموں سے سرگرم ہیں جن میں جماعت احیاء ھیکل ، جماعت نگہبانان ھیکل ، جبل حامور کی جانب پیشقدمی ، تحریک تعمیر ھیکل ، مدرسہ افکار یہودیت ، جماعت بنائے ھیکل ، جماعت جوانان اسرائیل ، جماعت محل ، جماعت مجلس عاملہ ھیکل ، تاج کاھنی تنظیم ، اور مسجد الاقصی کے تاج کی واپسی تحریک شامل ہیں۔ انتہا پسند یہودیوں کا یہ خیال ہے کہ سلیمان نبی کا ھیکل مسجد الاقصی میں ہے اور اس کو بہانہ بنا کر انتہا پسند یہودیوں نے کئی مرتبہ اس مقدس مقام میں غیرقانونی تعمیرات کا کام شروع کیا۔ اور یہ اقدام دراصل اس مقدس مقام میں اسلامی شعائر کو نابود اور مسجد الاقصی کے انہدام کے مقصد سے کیئے جاتے رہے ہیں۔ مسجد الاقصی کی میراث و اوقاف کے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ " یہودا عتصیون " ایسا فرد ہے کہ جو صہیونیوں کی خفیہ تنطیموں کا رکن رہا ہے اور جس نے اسی کی دہائی کے آوائل میں بھی مسجد الاقصی کو دہماکے سے اڑانے کا منصوبہ پیش کیا تھا اور یہی فرد مسجد الاقصی کے انہدام اور اس مقام پر یہودیوں کے لئے مبعد بنانے کا اصلی منصوبہ ساز بھی ہے۔ مسجد الاقصی کی میراث و اوقاف کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی چاہتے ہیں کہ مبعد سلیمان نبی ، مسجد الاقصی کے مقام میں ہی تعمیر کیا جائے تاکہ یہودیوں کے مذہبی ایّام میں دنیا بھر سے یہودی اس مبعد کو دیکھنے کے لئے مقبوضہ فلسطین آئیں۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے مسجد الاقصی کے خلاف صہیونی حکومت کے تخریب کارانہ اقدامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مقدس مقام کی حفاظت کے لئے پورا کا پورا عالم اسلام متحد ہے اور سب مل کر مسجد الاقصی کا دفاع کرینگے ، تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ میں بیت المقدس شہر میں فلسطینیوں اور مسلمانوں کی تعداد میں اضافے کا خواہاں ہوں۔ خالد مشعل نے مزید کہا ہم چاہتے ہیں کہ قدس شریف و مسجد الاقصی کا مسئلہ تمام علاقائی حکومتوں اور تحریکوں کے ایجنڈے میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ اسلامی کانفرنس تنظیم نے بھی عالمی اداروں سے کہا ہے کہ عملی اقدامات کے دائرے میں صہیونی ریاست کو عالمی قوانین کا پابند بنایا جائے اور مقدس و دینی مقامات کی حفاظت اور ان مقامات کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے صہیونی حکومت پر اپنے دباؤ کو بڑھائیں۔ دوسری جانب عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے اپنے سلب شدہ حقوق کی بحالی اور اپنی آبائی سرزمینوں میں فلسطینی مہاجروں کی واپسی کے لئے ملت فلسطین کی پائیداری و استقامت کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے اپنے ایک بیان میں شام سے فرار کے دوران سمندر میں فلسطینی مہاجرین کے ڈوب جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کسی نے بھی ملت فلسطین کو ان کی آبائی سرزمینوں میں واپسی سے محروم رکھا ہوا ہے ، فلسطینیوں کو درپیش مشکلات کے اصلی ذمہ دار ہیں اور اس میں سر فہرست غاصب صہیونی حکومت ہے ، کہ جو فلسطینیوں کے حقوق غصب کیئے ہوئے ہے۔ شام ان جملہ ممالک میں شامل ہے کہ جو کئی دہائیوں سے فلسطینی مہاجرین کا میزبان ہے اور شام میں پانچ لاکھ سے زیادہ فلسطینی مہاجرین آباد ہیں۔ فلسطینی مہاجرین کی بڑی تعداد شام ، لبنان اور اردن میں آباد ہے یہ فلسطینی مہاجرین صہیونی ریاست کی جانب سے فلسطین پر ناجائز قبضے کے بعد آوارہ وطن ہوئے ہیں۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی شام میں ایک مہاجر کیمپ میں سات فلسطینیوں کے قتل کی مذمت کی ہے اور شام میں جاری جھڑپوں کے تمام فریق مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات سے گریز کریں۔ اقوام متحدہ میں فلسطینی مہاجرین کی مدد کے پروگرام کے سربراہ نے درعا کے مہاجر کیمپ میں سات فلسطینی مہاجرین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں اور شام کے عام شہریوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات کو فوری طور پر رکنا چاہیے۔ مائیکل کینگزلی نینا نے فلسطینی مہاجرین کے قتل پر اپنے دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ شام میں جھڑپوں کے تمام فریق سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کے خلاف تشدد سے اجتناب کریں اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کریں۔ ایک رپورٹ کے مطابق شام کے بحران کے آغاز سے لیکر اب تک یعنی گذشتہ دو برسوں کے دوران اس ملک میں سولہ سو فلسطینی مارے گئے ہیں۔ مارے جانے والے فلسطینیوں میں اکثر مہاجرین ہیں کہ جو 1948 میں صہیونی حکومت کے ناجائز قیام کے بعد شام میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ جاپان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شام میں جاری جھڑپوں کے نتیجے میں فلسطینی مہاجرین کے بڑی تعداد میں  بے گھر ہونے کی وجہ سے ٹوکیو پچاس لاکھ ڈالر کی فوری امداد کا فراہم کررہا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق 11 ستمبر1948 کی پوزیشن میں فلسطینی مہاجرین کے لئے ان کی اپنے وطن واپسی کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے اور قرار داد نمبر 194 میں فلسطینیوں کی ان کے اپنے وطن واپسی کے حق کی وضاحت کی گئی ہے۔ ادھر بعض صہیونی حکام نے فلسطین کی خود مختار انتظامیہ اور صہیونی ریاست کے درمیان سازشی مذاکرات کے تعطل سے دوچار ہونے اور صہیونی حکومت کے اندر اختلافات میں شدت آنے کی خبر دی ہے۔ صہیونی حکومت کی کابینہ میں نتن یاھو حکومت کے مخالفین میں سے ایک بائیں بازو کی جماعت " متھرس " کے سربراہ " زھافا گلاؤن " کہ جو اس سے قبل صہیونی ریاست کے ساتھ فلسطینی انتظامیہ کے  مذاکرات کی پہلی دہائی میں لیبر پارٹی کے ہمراہ ان مذاکرات میں شریک رہے ہیں ، کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست اور فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے درمیان سازشی مذاکرات ، سرحدوں پر مستقل فوجی رکھنے پر صہیونی ریاست کی تاکید کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران کی بنا پر تعطل سے دوچار ہوجائیں گے۔ صہیونی ریاست کے حکام کے اس مطالبہ پر فلسطینی انتظامیہ نے اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مخالف کی اور فلسطینی حکام نے صہیونی حکام کے اس مطالبے کو فلسطین کی آزاد و مستقل حکومت کی حاکمیت کی خلاف ورزی کے مترادف قراردیاہے۔ صہیونی ریاست و فلسطینی انتظامیہ کے درمیان یہ مذاکرات تین سال کے وقفے کے بعد اس سال موسم گرما میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات کے ازسر نوآغاز کے لئے فلسطینی انتظامیہ کی جملہ شرطوں میں سے ایک غرب اردن کے علاقے میں یہودی کالونیوں کی تعمیر کو فوری روکنا ہے۔ صہیونی ریاست کی جانب سےاس شرط کی رعایت نہ کیئے جانے کے باوجود واشنگٹن کی ثالثی میں فلسطینی انتظامیہ اور صہیونی ریاست کے درمیان سازشی مذاکرات کا آغاز ہوگیا ، اور صہیونی ریاست مسلسل یہودی بستیوں کی تعمیر کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ مذاکرات کے بے نتیجہ چند دور گزر جانے کے بعد ، کچھ اس طرح ظاہر ہورہا تھا کہ شاید ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل پر اتفاق ہوجائے۔ لیکن صہیونی ریاست کے وفد نے صراحت کے ساتھ یہ کہنا شروع کردیا کہ غرب اردن کی سرحدوں میں اپنی فوج کو مستقل بنیادوں پر باقی رکھے گی۔ سرحدوں پر صہیونی فوجیوں کی موجودگی مقبوضہ سرزمین کے محاصر کے مترادف ہے۔ صہیونی فوج کو حتمی طور پر مقبوضہ سرزمینوں سے نکل کر1967 کی پوزیشن پر واپس جانا چاہیے۔ اس صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ نتن یاھو کی کابینہ ، فلسطینی فریق کو دہوکہ دینے کی کوشش میں ہے۔ صہیونی حکام یہودی کالونیوں کی تعمیر میں تیزی کے ساتھ ، مقبوضہ سرزمینوں میں فلسطینیوں کے گرد محاصرہ تنگ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اس کے ساتھ فوج و وزارت خارجہ کے بغیر فلسطینی مملکت کے قیام کی تجویز اور ساتھ ہی فلسطینی سرحدوں پر فوج کی مستقل تعیناتی ، صرف وقت تلف کرنے کی پالیسی ہے۔ صہیصہیونی ریاست و فلسطینی انتظامیہ کے درمیان 20 سال کے مذاکرات کے بعد ابھی تک فلسطینی ملک کی حدود اور سرحد کا تعیّن نہیں ہوسکا ہے اور بیت المقدس کی صورت حال کا نامشخص ہونا اور صہیونی ریاست کی جانب سے غرب اردن سے غزہ کو الگ کرنا جیسے موضوعات سے سازشی مذاکرات کے تعطل سے دوچار ہونے کا پتہ لگتا ہے اور یہ صورت حال خود صہیونی ریاست کے اندر اور عالمی سطح پر واضح و نمایاں ہوچکی ہے۔       

.......

/169